1990 کی دہائی ٹیکسٹ ٹو اسپیچ (TTS) ٹیکنالوجی کی ترقی کا اہم دور رہی، جس نے آج کے جدید سسٹمز کی بنیاد رکھی۔ یہ ٹیکنالوجی، جو تحریری متن کو بولی جانے والی آواز میں بدلتی ہے، نے ڈیجیٹل مواد کے ساتھ ہمارا میل جول ہی بدل کر رکھ دیا۔
ابتدائی دور اور ارتقا
90 کی دہائی کے شروع میں TTS آوازیں زیادہ روبوٹک اور کم قدرتی تھیں۔ اس کے باوجود یہ بڑی پیش رفت تھیں اور انہی پر بعد میں آنے والے وائس جنریٹر ٹولز کھڑے ہوئے۔ مائیکروسافٹ نے Windows میں یہ فیچر شامل کیا، جس نے عوام کے لیے TTS کو قابلِ رسائی بنایا، جیسے وائس اوور اور پڑھنے میں دشواری رکھنے والے لوگوں کی مدد۔
مختلف زبانوں کی سپورٹ
90 کی دہائی میں TTS میں زبانوں کی سپورٹ میں بڑا اضافہ ہوا۔ شروع میں زیادہ تر آوازیں انگریزی میں تھیں، پھر جاپانی، امریکن انگلش، ہسپانوی، اطالوی، روسی، فرانسیسی، جرمن، چینی اور عربی بھی شامل ہوئیں۔ یہ شمولیت غیر انگریزی بولنے والے ممالک کے لیے بہت اہم تھی۔
ٹیکنالوجیکل انضمام اور معیار میں بہتری
اسی دہائی میں TTS کی آوازوں کا معیار کافی بہتر ہوا۔ روایتی، مشینی آوازوں سے قدرتی ادائیگی کی طرف بڑا موڑ AI اور اسپیچ الگوردمز میں ترقی کی بدولت آیا۔ مائیکروسافٹ، ایپل اور ایمیزون (پولی کے ساتھ) نے AI پر مبنی TTS سسٹمز تیار کیے۔ یوں 'پال' اور 'ٹام' جیسی آوازیں متعارف ہوئیں، جو نسبتاً زیادہ قدرتی تھیں۔
درخواستوں میں توسیع
90 کی دہائی میں TTS نے آڈیو بکس، اینیمیشنز، پوڈکاسٹ اور ویڈیو گیمز میں بھی جگہ بنائی۔ اس کی لچک اور کم لاگت نے اسے مواد سازوں کے لیے پُرکشش بنا دیا۔ تعلیمی ٹیوٹوریلز میں بھی استعمال ہوا اور بعد میں اینڈرائیڈ، iOS نے اسے لرننگ ٹولز میں شامل کیا۔
APIs اور اوپن سورس کی تحریکیں
TTS کے APIs آنے سے ڈیولپرز اپنے ایپس میں آسانی سے آواز شامل کرنے لگے۔ اسی دور میں اوپن سورس تحریک بھی اٹھی، جس سے یہ ٹیکنالوجی مزید لوگوں تک پہنچی۔ دنیا بھر کے ڈیولپرز نے ایک دوسرے سے شیئر کر کے TTS کی ترقی میں حصہ لیا۔
خواتین کی آواز اور ثقافتی شمولیت
90 کی دہائی میں ٹی ٹی ایس میں مختلف آوازیں شامل کرنے کی سنجیدہ شروعات ہوئیں۔ خواتین کی آواز شامل کرنا ایک بڑا قدم تھا۔ اسی طرح مختلف لہجے اور بولیاں آئیں، جس سے ٹی ٹی ایس عام لوگوں کی بہتر نمائندگی کرنے لگا۔
مستقبل کی طرف
دہائی کے اختتام تک TTS اگلے بڑے مرحلے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ 90 کی دہائی میں رکھی گئی بنیاد پر 2000 کی دہائی میں TTS مزید جدید AI وائس جنریٹرز کے ساتھ روزمرہ ٹیکنالوجی میں گھل مل گیا۔
1990 کی دہائی TTS کے لیے بنیادی زمانہ رہی۔ ابتدائی جنریٹرز سے لے کر قدرتی، اعلیٰ معیار کے کثیر لسانی سسٹمز تک، اسی دور میں آج کی جدید ایپلی کیشنز کی بنیاد پڑی۔ اس دور کی نوآوریوں نے موجودہ TTS کی شکل بنائی اور آئندہ کے لیے مزید جدت کے دروازے کھول دیے۔
Speechify ٹیکسٹ ٹو اسپیچ
لاگت: آزمانے کے لیے مفت
Speechify ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ایک جدید ٹول ہے جس نے لوگوں کے متن پڑھنے کا انداز بدل دیا۔ اعلیٰ TTS ٹیکنالوجی سے یہ تحریر کو قدرتی آواز میں بدلتا ہے، جو پڑھنے میں دشواری، بصری کمزوری یا صرف آڈیو لرننگ پسند کرنے والوں کے لیے مددگار ہے۔ اس کا انضمام متعدد ڈیوائسز اور پلیٹ فارمز پر آسان ہے، تاکہ آپ کہیں بھی سن سکیں۔
Speechify TTS کی 5 اہم خصوصیات:
اعلیٰ معیار کی آوازیں: Speechify کئی عمدہ اور قدرتی آوازیں مختلف زبانوں میں فراہم کرتا ہے۔ اس سے سننے والے کو آسانی اور بہتر تجربہ ملتا ہے۔
آسان انضمام: Speechify ویب براؤزر، سمارٹ فون سمیت مختلف پلیٹ فارمز سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یوں آپ ویب سائٹس، ای میل، پی ڈی ایف یا دیگر ذرائع سے متن فوراً آواز میں سن سکتے ہیں۔
رفتار پر کنٹرول: صارفین اپنی پسند کے مطابق رفتار کم یا زیادہ کر سکتے ہیں، چاہے تیزی سے سنیں یا آہستہ، تفصیل سے۔
آف لائن سننا: Speechify کی اہم خوبی آف لائن متن سننے کی سہولت ہے، جس سے بغیر انٹرنیٹ بھی مواد تک رسائی رہتی ہے۔
متن کی ہائی لائٹنگ: جب متن پڑھا جا رہا ہو، تو Speechify اسی حصے کو ہائی لائٹ کرتا ہے، جس سے صارف بیک وقت سن کر اور دیکھ کر بہتر سمجھ اور یادداشت حاصل کر سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پہلی ٹیکسٹ ٹو اسپیچ آواز کون سی تھی؟
ج: پہلا TTS سسٹم 1960 کی دہائی میں Bell Labs میں تیار ہوا، جسے 'ڈیزی' آواز کہا جاتا تھا، اور اس نے ابتدائی اسپیچ سنتھیسز الگوردمز کے ذریعے متن کو آواز میں بدلا۔
سب سے حقیقت کے قریب TTS آواز کون سی ہے؟
آج کل سب سے قدرتی TTS آوازیں AI وائس جنریٹرز، جیسے Amazon Polly اور Google's WaveNet، تیار کرتے ہیں، جو جدید AI الگوردمز سے بہت قدرتی اور اعلیٰ معیار کی آڈیو بناتے ہیں۔
میمز میں کون سا TTS استعمال ہوتا ہے؟
ج: میمز میں مشہور TTS آوازیں عام طور پر Windows اور iOS کے وائس جنریٹرز سے آتی ہیں۔ ان کی الگ، اکثر مزاحیہ آوازیں، مثلاً Microsoft 'David' یا 'Zira'، میم بنانے والوں کی پسندیدہ ہیں۔
faith نے کون سی TTS استعمال کی؟
ابھی تک واضح نہیں کہ 'Faith' نے کون سی TTS آواز استعمال کی۔ البتہ Microsoft، Google، Apple سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر کئی انگریزی اور دیگر زبانوں میں آوازیں دستیاب ہیں۔
س: روبوٹ جیسی کون سی TTS آواز ہے؟
ابتدائی TTS سسٹمز، مثلاً 1980 اور 1990 کی دہائی میں بنی آوازیں، زیادہ روبوٹک تھیں۔ ان میں خاص طور پر 'Microsoft Sam' شامل ہے، جو اپنی مشینی آواز کی وجہ سے مشہور ہے۔
س: 90 کی دہائی کی TTS آواز کون سی ہے؟
90 کی دہائی میں 'Microsoft Sam', 'Microsoft Mary' اور 'Microsoft Mike' جیسی آوازیں مقبول تھیں۔ ان کا روبوٹک انداز انہیں منفرد بناتا تھا اور یہ وائس اوور سے لے کر ٹیوٹوریل تک ہر جگہ استعمال ہوتی تھیں۔

