آنکھوں کے مسائل رکھنے والے لوگوں میں اکثر پڑھنے کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ گلوکوما بھی ایسی ہی بیماریوں میں شامل ہے جس سے کم یا مکمل بینائی جا سکتی ہے۔ گلوکوما کے مریضوں کو پڑھنے میں شدید مشکل ہوتی ہے، کچھ تو بالکل نہیں پڑھ پاتے۔ اس لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ جیسی سہولیات بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
گلوکوما کیا ہے؟
گلوکوما آنکھ کی ایک بیماری ہے جو اپٹک نرو کو نقصان پہنچا کر نظر پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ بیماری تب بنتی ہے جب آنکھ کے اگلے حصے میں سیال جمع ہو کر پریشر بڑھا دیتا ہے۔
گلوکوما کی دو بنیادی اقسام ہیں: اوپن اینگل اور کلوز اینگل (یا نیرو اینگل) گلوکوما۔ پہلی قسم عام ہے اور آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، جبکہ دوسری زیادہ خطرناک، اچانک اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔
گلوکوما کو عام طور پر "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے کیونکہ شروع میں اس کی کوئی خاص علامات سامنے نہیں آتیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آدھے مریضوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ انہیں گلوکوما ہے۔ جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، نظر کے کناروں پر دھبے اور سائے سے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
گلوکوما ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق، 3 ملین امریکی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ زیادہ خطرے میں وہ لوگ ہیں جو چالیس سال سے زائد عمر کے ہیں، شوگر، مائگرین، ہائی بلڈ پریشر یا خاندانی ہسٹری رکھتے ہیں۔ دور یا نزدیک کی کمزوری والے، اور جنہیں پہلے آنکھ کی چوٹ لگ چکی ہو اُن میں بھی یہ رسک زیادہ ہوتا ہے۔
گلوکوما کی تشخیص صرف ماہر چشم سے مکمل آنکھوں کا معائنہ کروا کر ہی ہو سکتی ہے۔ اس کا کوئی مکمل علاج نہیں، مگر ڈاکٹر آنکھوں کے قطرے، مختلف دوائیں یا لیزر سرجری تجویز کر سکتے ہیں۔
گلوکوما پڑھنے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے
گلوکوما مریض کی حالت اور شدت کے مطابق پڑھنے کی صلاحیت پر مختلف طریقوں سے اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ بیماری نہ صرف اطراف کی بلکہ مرکزی بینائی کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے گلوکوما کے مریضوں کے لیے پڑھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر وہ کسی طرح پڑھ بھی لیں تو بھی جلد آنکھوں کی شدید تھکن محسوس کرتے ہیں۔
جب ہم پڑھتے ہیں تو مرکزی اور درمیانی دونوں طرح کی بینائی کام کر رہی ہوتی ہیں۔ اسی لیے گلوکوما میں پڑھنے کی رفتار خاصی سست ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ کچھ مریض بالکل ہی پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
انتہائی شدید گلوکوما میں مریض کے لیے پڑھنا ناممکن ہو سکتا ہے۔ اس سے روزمرہ کے کاموں میں خود مختاری متاثر ہوتی ہے اور زندگی کا معیار گِر جاتا ہے۔
حل – ٹیکسٹ ٹو اسپیچ سافٹ ویئر
ٹیکسٹ ٹو اسپیچ (TTS) ایک مدداور ٹیکنالوجی ہے جو گلوکوما کے مریضوں کے لیے پڑھنے کو آسان بناتی ہے۔ یہ اسکرین ریڈر کی طرح کسی بھی ڈیوائس پر موجود متن کو بلند آواز میں پڑھ کر سناتا ہے۔
کئی پروگرامز اور ایپس میں built-in ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، وائس اوور اور دیگر ایسی رسائی کی سہولتیں شامل ہیں، مثلاً مائیکروسافٹ ورڈ اور گوگل ڈاکس۔ ویب بیسڈ ٹولز اور کروم ایکسٹینشن بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ آپ آئی فون، آئی پیڈ اور اینڈرائیڈ پر ایپس بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ ان سب میں سب سے نمایاں اور مؤثر Speechify ہے۔
اسپیکیفائی – ٹیکسٹ ٹو اسپیچ کے ساتھ پڑھنا بنے آسان
Speechify ایک ٹیکسٹ ٹو اسپیچ پلیٹ فارم ہے جو تقریباً ہر قسم کے پڑھنے والے مواد کو آواز میں بدل سکتا ہے۔ یہ او سی آر ٹیکنالوجی کے ذریعے تصویر سے بھی متن پہچان کر اسے آواز میں ڈھال سکتا ہے۔ یعنی Speechify ڈیجیٹل یا پرنٹڈ ٹیکسٹ کو قدرتی انسانی آواز میں پڑھ کر سنا سکتا ہے۔
اس TTS ٹول میں 10 سے 30 کے درمیان ہائی کنٹراسٹ قدرتی آوازیں موجود ہیں، اور رفتار بھی اپنی پسند کے مطابق (5x تک) بڑھائی یا گھٹائی جا سکتی ہے۔ زبان اور لہجہ بھی ضرورت کے مطابق بدلا جا سکتا ہے۔
Speechify کو اینڈرائیڈ یا آئی او ایس موبائل ایپ کے طور پر انسٹال کریں۔ اسے کروم ایکسٹینشن اور آن لائن فری ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ٹول کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
Speechify نہ صرف کمزور بینائی والے افراد بلکہ وہ لوگ جو بالکل پڑھ نہیں سکتے، سب کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ آرٹیکلز سن سکیں اور اپنے روزمرہ کے کام خود انجام دے سکیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا پڑھنے سے گلوکوما بڑھتا ہے؟
نہیں، بلکہ اس کے برعکس۔ پڑھنے سے گلوکوما خراب نہیں ہوتا، اس بیماری میں مبتلا افراد کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ کئی طرح کے ٹولز موجود ہیں جو پڑھنے میں سہولت دے سکتے ہیں۔
کمزور بینائی والے افراد کیسے پڑھ سکتے ہیں؟
کمزور یا نابینا افراد کے پاس پڑھنے کے متبادل طریقے موجود ہیں۔ سب سے معروف بریل ہے، جو ابھری ہوئی نقطوں کا ایک نظام ہے۔ وہ آڈیو بکس سن سکتے ہیں یا ٹیکسٹ ٹو اسپیچ سافٹ ویئر کا سہارا لے سکتے ہیں۔
کیا بڑھا کر پڑھنا گلوکوما میں مدد دیتا ہے؟
اگر آپ کو گلوکوما ہے تو پڑھنے کے لیے میگنیفائر کا استعمال کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ روایتی ہینڈ ہیلڈ میگنیفائر یا ایپ کے ذریعے تحریر کو زوم کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔
کیا کمزور بینائی والے افراد پڑھ سکتے ہیں؟
یہ ان کی آنکھوں کی بیماری کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہے۔ ریٹینوپیتھی، میکولر ڈیجنریشن یا شدید گلوکوما والے اکثر خود سے پڑھ نہیں پاتے۔
گلوکوما میں پڑھنے کا سب سے بہترین طریقہ کیا ہے؟
گلوکوما میں پڑھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ہے۔ TTS سافٹ ویئر متن کو آواز میں پڑھتا ہے اور متعدد مدداور فیچرز کے ذریعے پڑھنے کا پورا تجربہ بہتر بنا دیتا ہے۔
گلوکوما مریضوں کے لیے کون سے ٹولز مددگار ہیں؟
گلوکوما کے مریض ٹیکسٹ ٹو اسپیچ، وائس اوور، میگنیفائر اور مختلف مدداور ایپس استعمال کر کے پڑھنے اور معلومات حاصل کرنے کو آسان بنا سکتے ہیں۔
کیا گلوکوما کے مریض رات کو پڑھ سکتے ہیں؟
اس مرض کے شکار افراد کو رات میں نظر مزید دھندلی محسوس ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے اندھیرے میں پڑھنا ان کے لیے خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔

